Saturday, 18 July 2020

بجلیاں پی کے جو اڑ جاتے ہیں

بجلیاں پی کے جو اڑ جاتے ہیں
وہ قیامت سے بھی لڑ جاتے ہیں
قلب انساں کی جواں حدت سے 
آگ" پر "آبلے" پڑ جاتے ہیں"
عشق جب وقت کو جھنجھوڑتا ہے
حادثے کانپ کے جھڑ جاتے ہیں
مقتلِ زیست سے محشر کی طرف
رقص کرتے ہوئے دھڑ جاتے ہیں
آہ" کی "زلزلہ" اندازی سے"
عرش کے پائے اکھڑ جاتے ہیں
ہم وہ انساں ہیں جو بندوں کے لیے
کبریا" سے بھی "بگڑ" جاتے ہیں"

شیر افضل جعفری

No comments:

Post a Comment