دار ہے مرد انا الحق کا وطن
عرش ہے مردِ خدا کی جاگیر
روک لے ابر کرم گستر کو
کھینچ کر برق تپاں کی زنجیر
عقل کی پنجۂ بیعت سے نکل
اس کے لکھے کو بدل سکتا ہے عشق
جس کی تقدیر ہو پتھر پہ لکیر
اس کا گھر پوچھتی پھرتی ہے رضا
شیر افضل ہے انا مست فقیر
شیر افضل جعفری
No comments:
Post a Comment