ادھر دیکھتے ہیں، ادھر دیکھتے ہیں
تُو ہی جلوہ گر ہے، جدھر دیکھتے ہیں
جو "چلتے" ہیں "راہِ وفا" پر وہ راہی
کہاں کوئی خوف و خطر دیکھتے ہیں
بہت "یاد" آتی ہے "تیری" ستم گر
نہ پوچھو گزرتی ہے کیا دل پہ اس دم
کہیں جو کوئی "چشمِ تر" دیکھتے ہیں
کوئی جرم کرتے ہیں لوگو بھلا ہم
کبھی جو خیالوں میں گھر دیکھتے ہیں
ہر اک دل تڑپتا ہے سن کر روبینہ
تِری شاعری میں "اثر" دیکھتے ہیں
روبینہ شاد
(بصارت سے محروم باہمت شاعرہ کی بصیرت آمیز شاعری)
No comments:
Post a Comment