تجھے کلیم! کوئی کیسے خوش کلام کہے؟
جو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہے
پیۓ" بغیر کہو تو یہ "تشنہ کام" کہے"
وہ رازِ مے جو صراحی کہے نہ جام کہے
نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں
کہوں جو برہمن و شیخ سے حقیقتِ عشق
خدا خدا یہ "پکارے"،۔ وہ رام رام کہے
میں غم کی راگنی بے وقت بھی اگر چھیڑوں
زبانِ وقت" مجھے وقت کا "امام" کہے"
کلیم عاجز
No comments:
Post a Comment