Monday, 20 July 2020

کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ

کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ
منظور تو ہے میری ملاقات سے توبہ
کیونکر نہ کروں شورِ مناجات سے توبہ
آغاز ہو جب چار گھڑی رات سے توبہ
زاہد سے چھپایا ہے اسے گوشۂ دل میں
بھاگی تھی کسی رندِ خرابات سے توبہ
یہ فصل اگر ہو گی تو ہر روز پئیں گے
ہم مہ سے کریں توبہ کہ برسات سے توبہ
تعریف صنم بات ہے پتھر نہیں زاہد
کیا ٹوٹ گئی حرف و حکایات سے توبہ
الله دکھائے نہ مجھے روز و شبِ ہجر
اس دن سے حزر کیجیے اس رات سے توبہ
خود ہم نہ ملیں گے نہ کہیں جائیں گے مہماں
کی آپ نے واللہ نئی "گھات" سے توبہ
پھسلاتے ہیں کیوں آپ مجھے حضرتِ ناصح
منت سے کروں گا نہ مناجات سے توبہ
دنیا کی کوئی بات ہی اچھی نہیں زاہد
اس بات سے توبہ کبھی اس بات سے توبہ
امید ہے مجھ کو یہ ندا آئے دمِ مرگ
مقبول ہوئی اس کی عنایات سے توبہ
یہ داغِ قدح خوار کے کیا جی میں ہے آئی
سنتے ہیں کیے بیٹھے ہیں وہ رات سے توبہ

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment