میرے دل کو دیکھ کر، میری وفا کو دیکھ کر
بندہ پرور! منصفی کرنا، "خدا" کو دیکھ کر
ہم انہی آنکھوں سے دیکھیں گے تِرا حسن و جمال
گر یہی آنکھیں "رہیں" اپنی، "خدا" کو دیکھ کر
اب تو دیکھا تم نے اپنے داد خواہوں کا ہجوم
حضرتِ زاہد!! ہماری چھیڑ کی عادت نہیں
گدگدی ہوتی ہے دل میں پارسا کو دیکھ کر
ہم مٹے جس پر، تِری بے ساختہ وہ بات تھی
تو بھی عاشق ہو ہی جاتا اس "ادا" کو دیکھ کر
غیر نے مہندی لگائی اس کے ہاتھوں میں جو داغ
خون آنکھوں میں اتر آیا "حنا" کو دیکھ کر
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment