کیا جو "اغیار" برا سوچتے ہیں
ہم بھی کب اپنا بھلا سوچتے ہیں
سوچتے ہیں کہ نہ سوچیں گے کچھ
سوچتے بھی ہیں تو کیا سوچتے ہیں
سوچتا ہوں کہ مِرے بارے میں
زندگی گزری بِنا کچھ سوچے
ہے یہ اب اس کی سزا سوچتے ہیں
میں دعا دیتا ہوں ان کو باصر
جو مِرے دکھ کی دوا سوچتے ہیں
باصر کاظمی
No comments:
Post a Comment