اپنا زیادہ "وقت" ہوا "نوکری" کی نذر
فرصت اگر ملی تو ہوئی "کاہلی" کی نذر
اپنی خوشی تمہاری خوشی میں تھی اس لیے
کر دی خوشی خوشی سے تمہاری خوشی کی نذر
یہ جسم ہے سو تیری امانت ہے اے اجل
کچھ نیکیاں جو اشکِ ندامت کا تھیں ثمر
صد حیف سب کی سب ہوئیں تر دامنی کی نذر
خود آگہی کے گرچہ "مواقع" ملے بہت
ہوتے رہے مگر وہ مِری بے خودی کی نذر
"باصر ہمارے "کام" نہ آیا ہمارا "دل
کچھ ان کی نذر ہو گیا کچھ شاعری کی نذر
باصر کاظمی
No comments:
Post a Comment