دشت اور آبلے ہی اچھے ہیں
تجھ سے اب فاصلے ہی اچھے ہیں
جس طرح کا تِرا نشانہ ہے
ہم تِرے سامنے ہی اچھے ہیں
پھول ہیں تو کھلے رہیں دائم
کھینچ لائے گئے دنوں کی مہک
یہ مناظر بڑے ہی اچھے ہیں
خالی رہ کے بھی شور کرنا ہے
پھر یہ برتن بھرے ہی اچھے ہیں
دو دھڑوں میں چھڑی ہوئی ہے جنگ
اور دونوں دھڑے ہی اچھے ہیں
راز احتشام
No comments:
Post a Comment