Sunday, 19 July 2020

تجھ سے اب فاصلے ہی اچھے ہیں

دشت اور آبلے ہی اچھے ہیں
تجھ سے اب فاصلے ہی اچھے ہیں
جس طرح کا تِرا نشانہ ہے
ہم تِرے سامنے ہی اچھے ہیں
پھول ہیں تو کھلے رہیں دائم
زخم ہیں تو ہرے ہی اچھے ہیں
کھینچ لائے گئے دنوں کی مہک
یہ مناظر بڑے ہی اچھے ہیں
خالی رہ کے بھی شور کرنا ہے
پھر یہ برتن بھرے ہی اچھے ہیں
دو دھڑوں میں چھڑی ہوئی ہے جنگ
اور دونوں دھڑے ہی اچھے ہیں

راز احتشام

No comments:

Post a Comment