Sunday, 19 July 2020

دشت ہے کچے گھڑے کے سامنے

کیا کروں اس مسئلے کے سامنے؟
دشت ہے کچے گھڑے کے سامنے
تہہ بہ تہہ منظر کھلے گا آنکھ پر
آئینہ ہے،۔ آئینے کے سامنے
اس لرزتے اشک کی ہمت تو دیکھ
ڈٹ گیا ہے "قہقہے" کے سامنے
جان لے کہ تیرے لب کچھ بھی نہیں
آگہی کے "ذائقے" کے سامنے
کر رہی ہے بے ثباتی پر خطاب
ایک سُوئی "بلبلے" کے سامنے
جانتا ہوں ماسک کے پیچھے کا دکھ
رو رہا ہوں مسخرے کے سامنے
سن رہا ہے وہ بھی میری شاعری؟
کانٹ چپ ہے دانتے کے سامنے

راز احتشام

No comments:

Post a Comment