سب یہاں پر اسیر ہوتے ہیں
میر، غالب، کبیر ہوتے ہیں
عشق کے سب بنے یہاں پر تو
سچے جھوٹے سفیر ہوتے ہیں
حسن کی اس گلی میں دیکھے تھے
بات حق کی بڑی کھٹن کرنا
کیونکہ دشمن کثیر ہوتے ہیں
جانتے ہیں کلیم سب اک بات
بندے ہم با ضمیر ہوتے ہیں
محمد کلیم
No comments:
Post a Comment