Sunday, 19 July 2020

سب یہاں پر اسیر ہوتے ہیں

سب یہاں پر اسیر ہوتے ہیں
میر، غالب، کبیر ہوتے ہیں
عشق کے سب بنے یہاں پر تو 
سچے جھوٹے سفیر ہوتے ہیں
حسن کی اس گلی میں دیکھے تھے
لوگ وہ جو شریر ہوتے ہیں
بات حق کی بڑی کھٹن کرنا
کیونکہ دشمن کثیر ہوتے ہیں
جانتے ہیں کلیم سب اک بات
بندے ہم با ضمیر ہوتے ہیں

محمد کلیم

No comments:

Post a Comment