پیار سے ہم علاج کرتے ہیں
اسی شے کو رواج کرتے ہیں
یہ محبت نہیں ترے "بس" کی
عشق" عاشق مزاج کرتے ہیں"
لوگ سارے یہاں کے ہیں کیسے
نفی اثبات "عشق" ہی تو ہے
جان اپنی "خراج" کرتے ہیں
ظلم "مٹتا" کلیم تب ہے جب
عشق سارے سماج کرتے ہیں
محمد کلیم
No comments:
Post a Comment