Sunday, 12 July 2020

وہ جس کا رنگ سلونا ہے بادلوں کی طرح

وہ جس کا رنگ سلونا ہے بادلوں کی طرح 
گِرا تھا میری نگاہوں پہ بجلیوں کی طرح 
وہ "روبرو" ہو تو شاید "نگاہ" بھی نہ اٹھے 
جو میری آنکھ میں رہتا ہے رتجگوں کی طرح 
چراغِ "ماہ" کے "بجھنے" پہ یہ ہوا محسوس 
نکھر گئی مِری شب تیرے گیسوؤں کی طرح 
وہ آندھیاں ہیں کہ دل پر تمہاری "یادوں" کے 
نشاں بھی مٹ گئے صحرا کے راستوں کی طرح 
قریب آئے تو "گم کردہ" رہ دکھائی دیئے 
جو دور سے نظر آتے تھے منزلوں کی طرح 
ہر اک نظر کی "رسائی" نہیں کہ دیکھ سکے 
ہجوم رنگ ہے خاروں میں بھی گلوں کی طرح 
نہ جانے کیسے سفر کی ہے آرزو دل میں ؟
میں اپنے گھر میں پڑا ہوں مسافروں کی طرح 
میں دشت درد ہوں یادوں کی نکہتوں کا امیں 
ہوا تھمے تو "مہکتا" ہوں گلشنوں کی طرح 
اسی کی دھن میں چٹانوں سے سر کو ٹکرایا 
وہ اک خیال کہ نازک تھا آئینوں کی طرح 

صادق نسیم

No comments:

Post a Comment