Monday, 7 December 2020

کیجیے اور سوالات نہ ذاتی مجھ سے

 کیجیے اور سوالات نہ ذاتی مجھ سے

اتنی شہرت بھی سنبھالی نہیں جاتی مجھ سے

نام اشیا کے بتائے مگر اے حکمتِ غیب

کاش تُو میری حقیقت نہ چھپاتی مجھ سے

دل شکن، عہد شکن، صبر شکن، قدر شکن

پوچھ لے اپنے سب القاب صفاتی مجھ سے

ہار جاتا میں خوشی سے کہ وفا کا تھا سوال

جیت جاتی، وہ اگر شرط لگاتی مجھ سے


شبنم رومانی

No comments:

Post a Comment