Monday, 7 December 2020

پہلے تو بہت گردش دوراں سے لڑا ہوں

 پہلے تو بہت گردش دوراں سے لڑا ہوں

اب کس کی تمنا ہے جو مقتل میں کھڑا ہوں

گو قدر مری بزم سخن میں نہیں، لیکن

ہیرے کی طرح فن کی انگوٹھی میں جڑا ہوں

خیرات میں بانٹے تھے جہاں میں نے ستارے

خود آج وہیں کاسۂ شب لے کے کھڑا ہوں

ہوتا کوئی پتھر بھی تو کام آتا جنوں کے

ٹوٹا ہوا شیشہ ہوں سر راہ پڑا ہوں

سمٹوں تو کسی سیپ کے سینے میں سما جاؤں

اے پریم جو پھیلوں تو سمندر سے بڑا ہوں


پریم واربرٹنی

No comments:

Post a Comment