اک ملاقات کا تو تھا ہی نہیں
مسئلہ ذات کا تو تھا ہی نہیں
تم نے تاروں سے کیوں گواہی لی
واقعہ رات کا تو تھا ہی نہیں
رفتہ رفتہ یہ بھر بھی سکتا تھا
زخم حالات کا تو تھا ہی نہیں
ہم کسی سے گِلہ بھی کیا کرتے
غم کسی بات کا تو تھا ہی نہیں
چاہتے ہم تو جیت سکتے تھے
دکھ ہمیں مات کا تو تھا ہی نہیں
تشنگی تھی مِرے مقدر میں
ذکر برسات کا تو تھا ہی نہیں
کیوں دعاؤں پہ انحصار کہ وقت
وہ مناجات کا تو تھا ہی نہیں
سیما غزل
No comments:
Post a Comment