Saturday, 12 December 2020

اک ملاقات کا تو تھا ہی نہیں

اک ملاقات کا تو تھا ہی نہیں

مسئلہ ذات کا تو تھا ہی نہیں

تم نے تاروں سے کیوں گواہی لی

واقعہ رات کا تو تھا ہی نہیں

رفتہ رفتہ یہ بھر بھی سکتا تھا

زخم حالات کا تو تھا ہی نہیں

ہم کسی سے گِلہ بھی کیا کرتے

غم کسی بات کا تو تھا ہی نہیں

چاہتے ہم تو جیت سکتے تھے

دکھ ہمیں مات کا تو تھا ہی نہیں

تشنگی تھی مِرے مقدر میں

ذکر برسات کا تو تھا ہی نہیں

کیوں دعاؤں پہ انحصار کہ وقت

وہ مناجات کا تو تھا ہی نہیں


سیما غزل

No comments:

Post a Comment