دیکھنا مجھ کو کبھی ایک نظر رات گئے
لگتا ہوں میں کوئی ویران کھنڈر رات گئے
کیا ترے خواب کا رستہ میں بتا دوں ان کو ؟
پوچھتے ہیں سبھی؛ جاتے ہو کدھر رات گئے؟
دن تو میں دوستوں، یاروں میں بِتا لیتا ہوں
یاد آتی ہے تری مجھ کو مگر رات گئے
چھوڑئیے، جائیے، سمجھیں گے نہ دکھ آپ مرا
آپ نے دیکھا نہیں بوڑھا شجر🌳 رات گئے
کھلے وہ کھڑکی تو آ جائیں گلی میں سب لوگ
کھلے وہ کھڑکی تو ہو جائے سحر رات گئے
خواب آتے نہیں بستی کے کسی شخص کو بھی
نیند آتی نہیں اس کو کبھی گر رات گئے
پھر چمکنے لگا سورج کی طرح میں، مجھ پر
اس نے ڈالی تھی فقط ایک نظر رات گئے
حذیفہ ہارون
No comments:
Post a Comment