فلمی گیت
ہے رات رات بھر کی، کاٹیں نہ کیوں خوشی سے
یہ رات قرض ہم نے مانگی ہے زندگی سے
ہے رات رات بھر کی
دے ساتھ تو بھی میرا، ہونے نہ دیں سویرا
اس رات کا اندھیرا ملتا ہے روشنی سے
ہے رات رات بھر کی
اے دل ابھی نہ سونا، یہ فرصتیں نہ کھونا
ہو گا ہے جو بھی ہونا، کیوں فکر ہے ابھی سے
ہے رات رات بھر کی
اے کاش وقت ٹھہرے، لمحات ہیں سنہرے
سب اٹھ گئے ہیں پہرے، خطرہ نہیں کسی سے
ہے رات رات بھر کی
یہ پیار کی بہاریں، کرنوں کی یہ پھواریں
آ وقت کو سنواریں، الفت کی سادگی سے
ہے رات رات بھر کی، کاٹیں نہ کیوں خوشی سے
یہ رات قرض ہم نے مانگی ہے زندگی سے
ہے رات رات بھر کی
تنویر نقوی
No comments:
Post a Comment