Saturday, 19 December 2020

بے طرح ان میں الجھ جائے گا نادانی نہ کر

 بے طرح ان میں الجھ جائے گا نادانی نہ کر

واقعات عمر رفتہ پر نظر ثانی نہ کر

دل پہ جو گزری ہے اس پر اشک افشانی نہ کر

زندگی کی انجمن میں مرثیہ خوانی نہ کر

کیا ضروری ہے کہ یہ دکھ بانٹنے والے بھی ہوں

ملنے والوں سے کبھی ذکر پریشانی نہ کر

آرزوؤں کو نہ رکھ ہر چیز سے بڑھ کر عزیز

تیز تر کانٹے ہیں یہ ان کی نگہبانی نہ کر

وقت کے بگڑے ہوئے اطوار کا انداز دیکھ

زندگی میں ہر قدم پر اپنی من مانی نہ کر

کشتی و طوفان کے اک ناز سے رشتے کو سمجھ

حلقۂ طوفاں میں رہ کر اپنی من مانی نہ کر

عرش اس میں تلخئ غم کے سوا کچھ بھی نہیں

تو کتاب زندگی کی صفحہ گردانی نہ کر


عرش صہبائی

No comments:

Post a Comment