Saturday, 5 December 2020

گلشن کی بہاروں پہ سر شام لکھا ہے

 گلشن کی بہاروں پہ سرِ شام لکھا ہے

پھر اس نے گلابوں سے میرا نام لکھا ہے

بہتے ہوئے پانی میں یہ لفظوں کے ستارے

شاید میرے محبوب نے پیغام لکھا ہے

یہ دردِ مسلسل میری دنیا میں رہے گا

کچھ سوچ کے اس نے میرا انجام لکھا ہے

جس نے میری جانب کبھی مڑ کر نہیں دیکھا

اس شخص کے ہاتھوں پہ میرا نام لکھا ہے

نیندوں نے کہا خواب سے یہ ہاتھ ملا کر

کیا اپنے مقدر میں بھی آرام لکھا ہے؟

تسنیم کی ہر رات گزرنی ہے سفر میں

آنکھوں کے جزیرے پہ یہ پیغام لکھا ہے


تسنیم صدیقی

No comments:

Post a Comment