کوئی مسیحا اتار
حسین فردا کی آرزو میں، مرا یقیں
کب سے زندگی کی صلیب پر
انتظار کی گرد ہو چکا ہے
یہ شعلۂ اعتبار
فانوسِ زیست میں، سرد ہو چکا ہے
مرے خدا
دل کی سرزمیں پر
کوئی مسیحا اتار، جو قتل گہِ جاں میں
امید کا معجزہ دکھائے
نہیں تو، اے آسمان والے
زمیں سے جس طرح تُو نے
ساری مسرتوں
ساری صداقتوں کو اٹھا لیا ہے
مرے یقیں کی
یہ بے کفن لاش بھی اٹھا لے
سرشار صدیقی
No comments:
Post a Comment