Saturday, 5 December 2020

نہ میں خواب گر نہ میں کوزہ گر

نہ میں خواب گر نہ میں کوزہ گر

میری منزلیں کہیں اور ہیں

مجھے جس جہاں کی تلاش ہے

جو دھمال میرا خیال ہے

جو کمال میرا جمال ہے

جو جمال میرا جلال ہے

جہاں ہجر روح وصال ہے

ابھی در وہ مجھ پہ کھلا نہیں

ابھی آگ میں ہوں میں جل رہا

ابھی اس کا عرفاں ہوا نہیں

مجھے رقصِ رومی ملا نہیں

ابھی سازِ روح بجا نہیں

رہِ سرمدی کا خیال ہے

میں ازل سے جس کا ہوں منتظر

مجھے اس ابد کی تلاش ہے

نہ میں گیت ہوں نہ میں خواب ہوں

نہ سوال ہوں نہ جواب ہوں

نہ عذاب ہوں نہ ثواب ہوں

میں مکاں میں ہوں اک لا مکاں

میں ہوں بے نشان کا اک نشاں

میری اک لگن میری زندگی

میری زندگی میری بندگی

میرے من میں ایک ہی آگ ہے

مجھے رقص رومی کی لاگ ہے

میرا مست کتنا یہ راگ ہے

کہ بلند میرا یہ بھاگ ہے

نہ میں خواب گر، نہ میں کوزہ گر


ابو حمزہ​/صلال یوسف

No comments:

Post a Comment