نہ میں خواب گر نہ میں کوزہ گر
میری منزلیں کہیں اور ہیں
مجھے جس جہاں کی تلاش ہے
جو دھمال میرا خیال ہے
جو کمال میرا جمال ہے
جو جمال میرا جلال ہے
جہاں ہجر روح وصال ہے
ابھی در وہ مجھ پہ کھلا نہیں
ابھی آگ میں ہوں میں جل رہا
ابھی اس کا عرفاں ہوا نہیں
مجھے رقصِ رومی ملا نہیں
ابھی سازِ روح بجا نہیں
رہِ سرمدی کا خیال ہے
میں ازل سے جس کا ہوں منتظر
مجھے اس ابد کی تلاش ہے
نہ میں گیت ہوں نہ میں خواب ہوں
نہ سوال ہوں نہ جواب ہوں
نہ عذاب ہوں نہ ثواب ہوں
میں مکاں میں ہوں اک لا مکاں
میں ہوں بے نشان کا اک نشاں
میری اک لگن میری زندگی
میری زندگی میری بندگی
میرے من میں ایک ہی آگ ہے
مجھے رقص رومی کی لاگ ہے
میرا مست کتنا یہ راگ ہے
کہ بلند میرا یہ بھاگ ہے
نہ میں خواب گر، نہ میں کوزہ گر
ابو حمزہ/صلال یوسف
No comments:
Post a Comment