زیست عنوان تیرے ہونے کا
دل کو ایمان تیرے ہونے کا
مجھ کو ہر سمت لے کے جاتا ہے
ایک امکان تیرے ہونے کا
آنکھ منظر بناتی رہتی ہے
یعنی سامان تیرے ہونے کا
آ گیا وقت میرے بعد آخر
اب پریشان تیرے ہونے کا
میرا ہونا بھی ایک پہلو ہے
ہاں میری جان تیرے ہونے کا
اظہر نواز
No comments:
Post a Comment