Thursday, 10 December 2020

آ جا مرے جنوں کو تماشا کیے بغیر

 آ جا مِرے جنوں کو تماشا کیے بغیر

الفت کو بے نیازِ تمنا کیے بغیر💓

کیا مطمئن ہیں وعدۂ فردا کے بعد وہ

کیونکر بنے گی ان سے تقاضا کیے بغیر

تم آ گئے تو اور خلش دل کی بڑھ گئی

اچھے تھے ہم خلش کا مداوا کیے بغیر

ہے تیری ہر نظر کو تمنا سے دشمنی

بنتی نہیں ہے پِھر بھی تمنا کیے بغیر

اک ذرہ فیضِ حسن سے خالی نہ تھا مگر

مانا نہ عشق ذرے کو صحرا کیے بغیر

کیا شے ہوں میں کہ مجھ پہ پڑی جو تِری نظر

چھوڑا نہ میں نے اس کو تمنا کیے بغیر


میکش اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment