صبح ہوتا ہے شام ہوتا ہے
خونِ نا حق مدام ہوتا ہے
پھیر لیتے منہ حقارت سے
یہ جوابِ سلام ہوتا ہے؟
کہتے ہو آپ کا یہاں کیا کام؟
عرضِ غم بھی تو کام ہوتا ہے
خوف آتا ہے جن کو مرنے سے
ان کا جینا حرام ہوتا ہے
جینے والے بھی مر ہی جاتے ہیں
مرنے والوں کا نام ہوتا ہے
کیا کلام اس کی خوش نصیبی میں
جس سے تُو ہمکلام ہوتا ہے
آمد آمد ہے اے وفا کس کی؟
آج کیا اہتمام ہوتا ہے
میلا رام وفا
No comments:
Post a Comment