جب اگلے سال یہی وقت آ رہا ہو گا
یہ کون جانتا ہے کون کس جگہ ہو گا
تُو میرے سامنے بیٹھا ہے اور میں سوچتا ہوں
کہ آئے لمحوں میں جینا بھی اک سزا ہو گا
ہم اپنے اپنے بکھیڑوں میں پھنس چکے ہوں گے
نہ تجھ کو میرا نہ مجھ کو ترا پتا ہو گا
یہی جگہ جہاں ہم آج مل کے بیٹھے ہیں
اسی جگہ پہ خدا جانے کل کو کیا ہو گا
یہی چمکتے ہوئے پل دھواں دھواں ہوں گے
یہی چمکتا ہوا دل بجھا بجھا ہو گا
لہو رلائے گا وہ دھوپ چھاؤں کا منظر
نظر اٹھاؤں گا جس سمت جھٹپٹا ہو گا
بچھڑنے والے تجھے دیکھ دیکھ سوچتا ہوں
تُو پھر ملے گا تو کتنا بدل چکا ہو گا
ریاض مجید
No comments:
Post a Comment