تمہاری جی نے نڈھال جذبے زمین سے آسماں کیے ہیں
تمہارے پیکر کے پیچ و خم نے یقین سارے گماں کیے ہیں
تمہاری 👁آنکھوں👁 نے آبنائے الاسکا پہ اتارے لشکر
تمہارے چہرے نے دشتِ اعظم میں میٹھے چشمے رواں کیے ہیں
تمہاری سانسیں ہیں بوڑھے کیکر کے زرد پھولوں کی بھینی خوشبو
تمہارے ہنسنے نے شہر بھر کے ہزاروں بوڑھے جواں کیے ہیں
تمہارا آنچل سوات دریا کے بہتے پانی کی سبز رنگت
تمہارے لہجے نے الف لیلیٰ کے سات قصے بیاں کئے ہیں
چنار رنگت ہتھیلیوں پہ بہار موسم کا پہلا بوسہ💛
اجاڑ جھیلوں کی برف پگھلی چراغ چہرے دھواں کئے ہیں
تمہارا پل بھر اداس ہونا شجر کے ہاتھوں کو خالی کر دے
سنہری گالوں پہ بہتے زم زم نے کتنے موسم خزاں کیے ہیں
تمہارے ابرو کی ایک جنبش نے سندھ ساگر کے رخ کو موڑا
تمہاری خفگی نے جانِ راہب شرارے آتش فشاں کیے ہیں
عمران راہب
No comments:
Post a Comment