مکتبِ عشق کا نصاب نہیں
کوئی صفحہ، کوئی کتاب نہیں
میرے مولا یہ تیرے بندوں میں
اتنا دھوکہ کہ کچھ حساب نہیں
تیری باتیں تو بعد میں جاناں
تیرے انداز کا جواب نہیں
ہم کو برباد کر کے کہتے ہیں
جائیے آپ انتخاب نہیں
ہم نے پوچھا کہ پیار ہے ہم سے
جھٹ سے بولے ارے جناب نہیں
مجھ کو ہنس کر نہ ٹالیے صاحب
یہ مری بات کا جواب نہیں
جو تری آنکھ کا ہو دیوانہ
اس کو جچتی کوئی شراب نہیں
ہم مریں یا جئیں تمہیں کیا ہے
ہم تری جان کا عذاب نہیں
ہم تو بس ہم ہیں اور ایسے کہ
ہم تو اچھے نہیں، خراب نہیں
ہم کو بس آپ سے محبت ہے
یہ حقیقت ہے کوئی خواب نہیں
واعظوں، مفتیوں کا کہنا ہے
عشق کی راہ میں ثواب نہیں
اتنا آساں نہیں ہے عشقِ علی
یہ فنا ہے، کوئی خطاب نہیں
علی سرمد
No comments:
Post a Comment