Saturday, 5 December 2020

وفا ہماری آن تھی نہیں رہی

 وفا ہماری آن تھی، نہیں رہی

جو دو دلوں کی جان تھی، نہیں رہی

وہ شاہ زادہ داسیوں میں کھو گیا

جو سلطنت کی شان تھی، نہیں رہی

پیار جیسا جرم مجھ سے ہو گیا

میں گھر میں سب کا مان تھی، نہیں رہی

منا رہا ہے مجھ کو کہہ رہا ہے یہ

وہ بے رخی تھکان تھی، نہیں رہی

سمے کے ساتھ حسن ماند پڑ گیا

وہ آنکھ جو کمان تھی، نہیں رہی

یہ شعر جو سنا رہے ہو عام ہیں

وہ نظم جو گیان تھی، نہیں رہی


افشاں کنول

No comments:

Post a Comment