Sunday, 13 December 2020

اک دن تم نے مجھ سے کہا تھا دھوپ کڑی ہے

وہ لمحہ جو میرا تھا


اک دن 

تم نے مجھ سے کہا تھا 

دھوپ کڑی ہے 

اپنا سایہ ساتھ ہی رکھنا 

وقت کے ترکش میں جو تیر تھے کھل کر برسے ہیں 

زرد ہوا کے پتھریلے جھونکوں سے 

جسم کا پنچھی گھایل ہے 

دھوپ کا جنگل پیاس کا دریا 

ایسے میں آنسو کی اک اک بوند کو 

انساں ترسے ہیں 

تم نے مجھ سے کہا تھا 

سمے کی بہتی ندی میں 

لمحے کی پہچان بھی رکھنا 

میرے دل میں جھانک کے دیکھو 

دیکھو ساتوں رنگ کا پھول کھلا ہے 

وہ لمحہ جو میرا تھا وہ میرا ہے 

وقت کے پیکاں بے شک تن پر آن لگے 

دیکھو اس لمحے سے کتنا گہرا رشتہ ہے


ادا جعفری

No comments:

Post a Comment