Sunday, 13 December 2020

آتے ہیں مجھے پر وہ ستانے نہیں آتے

 آتے ہیں مجھے پر وہ ستانے نہیں آتے

اب یاد مجھے درد پرانے نہیں آتے

اس مطلبی دنیا سے غرض ہم کو نہیں ہے

بجھ جائے کبھی شمع جلانے نہیں آتے

جو رستہ دکھاتے ہیں نہیں ساتھ وہ چلتے

پھر لوگ وہی آگ بجھانے نہیں آتے

احساس سے جو عاری وہ قسمت میں ہماری

رشتے کیوں ان کو ہی نبھانے نہیں آتے

چالاک زمانے سے نہ آیا ہمیں لڑنا

انگلی پہ ہمیں لوگ نچانے نہیں آتے

سن لیتے سبھی کی ہیں سناتے نہیں ہیں ہم

باتوں کے ہمیں تیر چلانے نہیں آتے

سب دیکھ کے انجان رہو اچھا یہی ہے

رسوائی کے اب ڈھول بجانے نہیں آتے


سیما غزل

No comments:

Post a Comment