آتے ہیں مجھے پر وہ ستانے نہیں آتے
اب یاد مجھے درد پرانے نہیں آتے
اس مطلبی دنیا سے غرض ہم کو نہیں ہے
بجھ جائے کبھی شمع جلانے نہیں آتے
جو رستہ دکھاتے ہیں نہیں ساتھ وہ چلتے
پھر لوگ وہی آگ بجھانے نہیں آتے
احساس سے جو عاری وہ قسمت میں ہماری
رشتے کیوں ان کو ہی نبھانے نہیں آتے
چالاک زمانے سے نہ آیا ہمیں لڑنا
انگلی پہ ہمیں لوگ نچانے نہیں آتے
سن لیتے سبھی کی ہیں سناتے نہیں ہیں ہم
باتوں کے ہمیں تیر چلانے نہیں آتے
سب دیکھ کے انجان رہو اچھا یہی ہے
رسوائی کے اب ڈھول بجانے نہیں آتے
سیما غزل
No comments:
Post a Comment