Sunday, 13 December 2020

پرانے بوٹ ہیں تسمے کھلے ہیں

 سلونی سردیوں کی نظم


پرانے بوٹ ہیں تسمے کھلے ہیں

ابھی مٹی کے چہرے ان دھلے ہیں

شرابیں اور مشکیزہ سحر کا

ابھی ہے جسم پاکیزہ گجر کا

سُتے چہرے پہ استہزا کا موسم

لہو نبضوں سے خالی کر گیا ہے

گلے میں ملک کے تعویذ ڈالو

بدیسی برچھیوں سے ڈر گیا ہے

غزل دالان میں رکھی ہے میں نے

مہک ہے سنگترے کی قاش جیسی

یہ کیسی مے ہے جو چکھی ہے میں نے

مجھے عشاق یہ کہتے ہیں عامر

بہت تنہا سسکتے دہر میں ہو

بڑے شاعر ہو چھوٹے شہر میں ہو

فریبِ عصر سے مدہوش کمرا

نگوڑی تتلیوں سے بھر گیا ہے

سمندر پنڈلیوں تک آتے آتے

کسی پتھر کی سِل پر مر گیا ہے

سلونی سردیوں سے جھانکتے ہیں

وہ ابرو کشتیوں کو ہانکتے ہیں

سلیٹی بادلوں کا یہ صحیفہ

مِری مٹھی میں پڑھتا ہے وظیفہ

میں روتا ہوں تو رو پڑتے ہیں طائر

مِرے حجرے میں کم آتے ہیں زائر

یہ پوریں نور بافی کر رہی ہیں

محبت کو غلافی کر رہی ہیں

تفاخر میں ہے دو ہونٹوں کا خم بھی

ابھی رکھا نہیں میں نے قلم بھی


عامر سہیل

No comments:

Post a Comment