Friday, 4 December 2020

اس کی آنکھوں میں ڈوب جائیو مت

 اس کی آنکھوں میں ڈوب جائیو مت

💢ڈوبیو تو اسے بتائیو مت💢

کھو گیا ہوں میں اپنے اندر میں

مجھ کو میرے سے ڈھونڈ لائیو مت

تم ستارہ✩ ہو میری سحری کا

میں نہ دیکھوں تو جھلمائیو مت

بے ثباتی میاں بہت ہے یہاں

بے ثباتی سے مات کھائیو مت

شعر کہیو وہی جو اچھا ہو

میر و غالب کا دل دکھائیو مت


ریاض نجم

No comments:

Post a Comment