ایک ادھوری نظم
ادھوری بات کرتا ہوں
ادھوری بات سنتا ہوں
ہمیشہ میرے ہونٹوں پر ادھورے گیت ہوتے ہیں
مِرے آنگن میں آدھی دھوپ اترتی ہے
ادھورے موسموں میں ادھ کھلے پھولوں کی خوشبو
نامکمل طور سے مجھ تک پہنچتی ہے
ہزاروں منظروں کے بیچ سے ہو کر گزرتا ہوں
مگر اک کیف کا لمحہ مِری خاطر نہیں ہوتا
مِری چھت پر کبھی ابرِ کرم کھُل کر نہیں برسا
کبھی اس نے مِری جانب نظر بھر کر نہیں دیکھی
مگر چھوڑو
گلہ کیسا
شکایت کیا
یہ دنیا ہے
یہاں پر کیا مکمل ہے
یہاں سب کچھ ادھورا ہے
سلمان باسط
No comments:
Post a Comment