Tuesday, 15 December 2020

سخن کے زندان میں ہمیشہ پڑے رہیں گے

 سخن کے زندان میں ہمیشہ پڑے رہیں گے

جو لوگ اپنے کہے ہوئے پر اڑے رہیں گے

ہمارے ٹکڑے بکھر چکے ہوں گے وادیوں میں

ہمارے جھنڈے پہاڑیوں پر گڑے رہیں گے

ترے پلٹنے کے منتظر لوگ زندگی بھر

شجرکی صورت جہاں کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے

جو وقتِ رخصت عطا ہوئے تھے تمہارے دم سے

ہماری آنکھوں میں وہ نگینے جڑے رہیں گے

ہمیں بزرگوں نے یہ بتایا کہ جھکنے والے

بڑائیوں میں بڑے بڑوں سے بڑے رہیں گے

پلٹ کے روحیں یہی کہیں گی فلک پہ جا کر

زمین زادے زمیں کے نیچے پڑے رہیں گے


علی شیران

No comments:

Post a Comment