سخن کے زندان میں ہمیشہ پڑے رہیں گے
جو لوگ اپنے کہے ہوئے پر اڑے رہیں گے
ہمارے ٹکڑے بکھر چکے ہوں گے وادیوں میں
ہمارے جھنڈے پہاڑیوں پر گڑے رہیں گے
ترے پلٹنے کے منتظر لوگ زندگی بھر
شجرکی صورت جہاں کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے
جو وقتِ رخصت عطا ہوئے تھے تمہارے دم سے
ہماری آنکھوں میں وہ نگینے جڑے رہیں گے
ہمیں بزرگوں نے یہ بتایا کہ جھکنے والے
بڑائیوں میں بڑے بڑوں سے بڑے رہیں گے
پلٹ کے روحیں یہی کہیں گی فلک پہ جا کر
زمین زادے زمیں کے نیچے پڑے رہیں گے
علی شیران
No comments:
Post a Comment