یہ کس مقام پہ ٹھہرا ہے کاروانِ وفا؟
نہ روشنی کی کرن ہے کہیں، نہ تازہ ہوا
ہوئی ہے جب سے یہاں نطق و لب کی بخیہ گری
سوائے حسرتِ اظہار دل میں کچھ نہ رہا
اس اہتمام سے شب خوں پڑا کہ مدت سے
اجاڑ سی نظر آتی ہے شہرِ دل کی فضا
تمام عمر اسی کی تلاش میں گزری
وہ ایک عکس جو آئینۂ نظر میں نہ تھا
برنگِ غنچہ کوئی لب کشا ہوا نہ کبھی
سدا بھٹکتے رہے ہم مثالِ موجِ صبا
یہ کس نے آج دبے پاؤں دل میں آتے ہی
خیال و فکر کا قفلِ سکوت توڑ دیا
کچھ اس طرح سے تری یاد کی مہک آئی
کہ جیسے دامنِ صحرا میں کوئی پھول کھلا
شکستِ دل پہ رضا ہم بھی ٹوٹ کر روئے
مگر نہ ایسے کہ سو ہی سکے نہ ہمسایہ
رضا ہمدانی
No comments:
Post a Comment