ترے ہونے کا خدشہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے
ہماری زندگی کیا ہے کھلونے کے برابر ہے
ہمارا ایک دوجے سے یہ ملنا اور بچھڑ جانا
یہ قصہ زخم میں نشتر چھبونے کے برابر ہے
ہماری سانس کی ڈوری میں گرہیں پڑتی جاتی ہیں
کوئی عقدہ ہے اور عقدہ پرونے کے برابر ہے
ہمیں معلوم ہے ایسا، نہیں ممکن، نہیں ممکن
فقط اک آرزو ہے اور نہ ہونے کے برابر ہے
ہمیں کب میر سی تاثیر کا دعویٰ میسر ہے
مگر لہجہ ہمارا بھی تو رونے کے برابر ہے
کمالِ فن ہمیں طارق میسر آ تو جائے پر
تجھے پانے کا مطلب بھی تو کھونے کے برابر ہے
طارق حبیب
No comments:
Post a Comment