Saturday, 12 December 2020

ترے ہونے کا خدشہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے

ترے ہونے کا خدشہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے

ہماری زندگی کیا ہے کھلونے کے برابر ہے

ہمارا ایک دوجے سے یہ ملنا اور بچھڑ جانا

یہ قصہ زخم میں نشتر چھبونے کے برابر ہے

ہماری سانس کی ڈوری میں گرہیں پڑتی جاتی ہیں

کوئی عقدہ ہے اور عقدہ پرونے کے برابر ہے

ہمیں معلوم ہے ایسا، نہیں ممکن، نہیں ممکن

فقط اک آرزو ہے اور نہ ہونے کے برابر ہے

ہمیں کب میر سی تاثیر کا دعویٰ میسر ہے

مگر لہجہ ہمارا بھی تو رونے کے برابر ہے

کمالِ فن ہمیں طارق میسر آ تو جائے پر

تجھے پانے کا مطلب بھی تو کھونے کے برابر ہے


طارق حبیب 

No comments:

Post a Comment