پیاسے کب مٹکے سے شجرہ پوچھتے ہیں
تھوڑا پانی دیکھا کنکر پھینک دیا
اس سے زیادہ منظر کو کیا چاہوں گا
حیرت رکھ لی اور مصور پھینک دیا
اس نے رانی پھینکی تو میں نے ہنس کر
اپنا شاہ سنبھالا، جوکر پھینک دیا
جھیل پہ جو گزرے گی اس کی وہ جانے
مجھ بیزار نے یوں ہی پتھر پھینک دیا
ذوالقرنین حسنی
No comments:
Post a Comment