Monday, 7 December 2020

چمن کو لگ گئی کس کی نظر خدا جانے

 چمن کو لگ گئی کس کی نظر خدا جانے

چمن رہا نہ رہے وہ چمن کے افسانے

سنا نہیں ہمیں اجڑے چمن کے افسانے

یہ رنگ ہو تو سنک جائیں کیوں نہ دیوانے

چھلک رہے ہیں صراحی کے ساتھ پیمانے

بلا رہا ہے حرم، ٹوکتے ہیں بت خانے

کھسک بھی جائیگی بوتل تو پکڑے جائینگے رند

جناب شیخ لگے آپ کیوں قسم کھانے

خزاں میں اہل نشیمن کا حال تو دیکھا

قفس نصیب پہ کیا گزری خدا جانے

ہجوم حشر میں اپنے گناہ گاروں کو

تیرے سوا کوئی ایسا نہیں جو پہچانے

نقاب رخ سے نہ سرکی تھی کل تلک جن کی

سبھا میں آج وہ آئے ہیں ناچنے گانے

کسی کی مست خرامی سے شیخ نالاں ہیں

قدم قدم پہ بنے جا رہے ہیں مے خانے

یہ انقلاب نہیں ہے تو اور کیا بسمل

نظر بدلنے لگے اپنے جانے پہچانے


بسمل عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment