Wednesday, 16 December 2020

سکوں دینے لگا ہے ہجر اب آہستہ آہستہ

 سکوں دینے لگا ہے ہجر اب، آہستہ آہستہ

کہیں مٹ جائے ناں تیری طلب، آہستہ آہستہ

بتاشے سے گھلے جاتے ہیں اس کا نام لینے سے

ہوئے جاتے ہیں شیریں دہن و لب، آہستہ آہستہ

گلے شکوے نہ کیوں ہم اور ہی دن پر اٹھا رکھیں

پھسل جائے نہ ہاتھوں سے یہ شب ، آہستہ آہستہ

تری گفتار سے جانچا، رگوں میں خون ہے کیسا

کھلا کردار سے حسب و نسب، آہستہ آہستہ

توجہ کی رسد مت کیجیے کم ہے یہی کلیہ

رسد کم ہو تو بڑھتی ہے طلب آہستہ آہستہ

یہ کیسی سرکشی بچوں کے ذہنوں میں ہے در آئی

ہوا رخصت بزرگوں کا ادب، آہستہ آہستہ

پلاؤ زہر مت انساں کو نفرت کا تعصب کا

بنے گا یہ تباہی کا سبب آہستہ آہستہ

دمکتے رخ، ستارہ آنکھ پر، نسریں گماں کیسا

پڑے گی ماند ساری تاب و تب، آہستہ آہستہ


نسرین سید

No comments:

Post a Comment