Sunday, 13 December 2020

تدبیر قرار صبح نہیں سامان سکون شام نہیں

تدبیر قرارِ صبح نہیں سامان سکونِ شام نہیں

کمبخت محبت والوں کو دنیا میں کہیں آرام نہیں

وہ روز نہیں وہ رات نہیں وہ صبح نہیں وہ شام نہیں

جب رنج نہیں افکار نہیں، اندوہ نہیں، آرام نہیں

سمجھے گا نہ کوئی سمجھا ہے اسرارِ جہانِ فطرت کو

یہ دل کی لگی وہ ہے، جس کا آغاز نہیں، انجام نہیں

مغموم کیا، ناشاد کیا، بس دل نے ہمیں برباد کیا

قسمت سے شکایت کوئی نہیں تقدیر پہ کچھ الزام نہیں

وہ لمحہ فنا کا جان لیا،۔ پیغام قضا کا مان لیا

جب دل میں کسی کا دھیان نہیں جب لب پہ کسی کا نام نہیں

یہ عشق خیال خام سہی رسوائے جہاں بد نام سہی

کیا تیرا غرور و ناز بتا اے حسن خیال خام نہیں

تقدیر نے تیرا درد دیا دن رات جگر کا خون پیا

دنیا میں ہمارا اس کے سوا کچھ شغل نہیں کچھ کام نہیں

ٹوٹے نہیں روز و شب محشر کس وقت ترے دیوانوں پر

کب تیری نگہ کو مد نظر عشاق کا قتل عام نہیں

بہتر ہے یہی خود اٹھ جائے مے خانۂ ہستی سے نامی

صہبائے محبت ہی سے اگر لب ریز یہ دل کا جام نہیں


منظور حسن نامی

No comments:

Post a Comment