Sunday, 13 December 2020

خیال یار میں مجھ کو یونہی مدہوش رہنے دو

 خیالِ یار میں مجھ کو یونہی مدہوش رہنے دو

نہ پوچھو رات کا قصہ مجھے خاموش رہنے دو

بنا جس کے کہے جس کی میں سب باتیں سمجھتا ہوں

مجھے اس کے لیے یونہی ہمہ تن گوش رہنے دو

سنایا وصل کا قصہ، تو میرے یار یوں بولے

کہاں تم اور کہاں اس کی حسیں آغوش رہنے دو

مجھے معلوم ہے اس نے مرا ہونا نہیں، لیکن

مری امید مت توڑو، مجھے پر جوش رہنے دو

محبت جرم ہے میرا، مجھے اقرار ہے اس کا

وفا الزام ہے تو پھر مرے سر، دوش رہنے دو

کتابِ عشق سے ہم پر یہی عقدہ کھلا آسی

پیے جو جام الفت کا اسے مے نوش رہنے دو


قمر آسی ‬

No comments:

Post a Comment