یوں ہی
اس قدر تلخیاں
وقت نے ڈھال دیں
میرے رنگ روپ میں
اس کڑی دھوپ میں
چلو اچھا ہوا
صبح پر نور نے
تیرہ راتوں کی جب
بجھتی امید کی
سب حسرتیں ڈال دیں
سب عیاں ہو گیا
وقت رکتا کہاں
وہ رکا بھی نہیں
اور پھر اجنبی
منزلوں کی طرف
عزم پِختہ لیے
دل شکستہ لیے
جانے کیا وہ
گھڑی تھی؟
رواں ہو گیا
سب عیاں ہو گیا
حرز جان ہو گیا
ثاقب کلیانی
No comments:
Post a Comment