Sunday, 13 December 2020

اس قدر تلخیاں وقت نے ڈھال دیں

 یوں ہی


اس قدر تلخیاں

وقت نے ڈھال دیں

میرے رنگ روپ میں

اس کڑی دھوپ میں

چلو اچھا ہوا

صبح پر نور نے

تیرہ راتوں کی جب

بجھتی امید کی

سب حسرتیں ڈال دیں

سب عیاں ہو گیا

وقت رکتا کہاں

وہ رکا بھی نہیں

اور پھر اجنبی

منزلوں کی طرف

عزم پِختہ لیے

دل شکستہ لیے

جانے کیا وہ

گھڑی تھی؟

رواں ہو گیا

سب عیاں ہو گیا

حرز جان ہو گیا


ثاقب کلیانی

No comments:

Post a Comment