Sunday, 13 December 2020

بس برف گرنے ہی والی ہے

 دسمبر


 اونچے نیچے مکانوں کی خالی منڈیروں پہ

لاکھوں برس گہری نیندوں میں سوئے پہاڑوں کی گم چوٹیوں تک

زماں دیدہ بوڑھے درختوں کی

بے برگ شاخوں میں

ٹھنڈی ہوا چلتے چلتے ٹھہر سی گئی ہے

ابھی تک یہ دل رات دیکھے ہوئے

خوابِ بد کے سبب سہما سہما سا ہے

آج بھی میں نے معمول کے کام سب کر لیے ہیں

اور اب گھر کو جانے سے پہلے

جہاں کل کی روٹی میں رکھا ہوا ٹھنڈا سالن، مرا میلا بستر مرے منتظر ہیں

میں ٹھٹھرے ہوئے ہاتھ پتلون کی خالی جیبوں میں ڈالے ہوئے

اس پرانے سے لکڑی کے دروازے میں رک گیا ہوں

کوئی کہہ رہا ہے

"سنو! خامشی ایک بھولے ہوئے گیت کی دُھن ہے"

لیکن ابھی دل غمِ روزمرہ سے فارغ نہیں

آج کی ڈاک میں بھی مجھے صرف سرکاری خط ہی ملے ہیں

کوئی واقعہ، کوئی دن، کوئی چہرہ مری سرد آنکھوں میں آ کر چمکتا نہیں

روشنی گھٹتی جاتی ہے

بس برف گرنے ہی والی ہے


افتخار بخاری

No comments:

Post a Comment