Tuesday, 5 January 2021

زندہ ہے پر مانگ رہی ہے جینے کی آزادی

 زندہ ہے پر مانگ رہی ہے جینے کی آزادی

دیو کے چنگل میں شہزادی یہ کشمیر کی وادی

چھینتے ہیں ہونٹوں سے دعائیں اور سروں سے ردائیں

دشمن نے جن بھڑیوں کو جنگی وردی پہنا دی

شاید ایسے اک میت پامالی سے بچ جائے

ماں نے کم سِن بچی کی دریا میں لاش بہا دی

سوئے ہوئے ضمیر نے اب تک دروازہ نہیں کھولا

ہم نے تو ظلم کے پہلے دن زنجیر عدل ہلا دی

حُسن لکیریں کھینچ رہا تھا سادہ سے کاغذ پر

آزادی کا لفظ لکھا، کشمیر کی شکل بنا دی


غلام محمد قاصر

No comments:

Post a Comment