Tuesday, 5 January 2021

تمام دنیا میں جتنے ظالم جہاں جہاں ہیں انہیں بتا دو

 اعلان


تمام دنیا میں جتنے ظالم جہاں جہاں ہیں انہیں بتا دو

کہ نسلِ آدم کی جتنی ذلت تھی ان کے بس میں وہ کر چکے ہیں

جو ان کی پلکوں کی جنبشوں میں حیات پاتے تھے مر چکے ہیں

یہی افق تھے کہ جن میں صدیوں سے کوئی سورج

نہیں اُگا تھا

یہی زمینیں تھیں جن کا جوبن

پرائے لوگوں میں بَٹ رہا تھا

یہی وہ گمنام دلہنیں تھیں کہ جن کے ماتھوں

پہ کوئی جھُومر نہیں سجا تھا

انہیں بتا دو اداس نسلوں کے خواب رستے نِکھر چکے ہیں

سیاہیوں کے عقب سے پھُوٹی ہے روشنی کی امید آخر

قفس نشینوں کو مِل رہی ہے رہائیوں کی نوید آخر

گلاب جسموں سے ہونے والی ہے اب ہوس کی کشید آخر

انہیں بتا دو کہ تشنہ کاموں کے صبر پیمانے بھر چکے ہیں

جو اپنے ہونے سے منفعل تھے

سروں کو تانے ہوئے کھڑے ہیں

نواحِ ظلمت میں قریہ قریہ

نئی سحر کے عَلم گڑے ہیں

غبار آسا جو منتشر تھے

مثالِ کوہِ گراں اَڑے ہیں

انہیں بتا دو کھُلے فلک سے غلام سورج گزر چکے ہیں

تمام دنیا میں جتنے ظالم جہاں جہاں ہیں انہیں بتا دو

جو ان کی پلکوں کی جُنبشوں میں حیات پاتے تھے مر چکے ہیں


امجد اسلام امجد

No comments:

Post a Comment