Tuesday, 5 January 2021

شہ رگ پاکستان کی ہے یہ ارض گل کشمیر

 شہ رگ پاکستان کی ہے یہ ارضِ گل کشمیر

آگ میں لیکن سلگ رہا ہے میرا ارم نظیر

دکھ تکلیف نے گھیرا ہے اب ان کو چاروں اور

دیکھ کے ان کو ہو جاتے ہیں پتھر بھی دلگیر

کچھ تو ہیں آزاد یہاں اور باقی ہیں مغلوب

اک دوجے سے مل جانا ہے اب ان کی تقدیر

قلم سے یا طاقت سے لازم ہے مگر جہاد

کرنا ہو گی ایک نہ اک دن تو کوئی تدبیر

غاصب کیسا قبضہ تیرا رشکِ گلشن پر

یہ دھرتی اسلام کی مسکن کب تیری جاگیر

 

عاکف غنی

No comments:

Post a Comment