شہ رگ پاکستان کی ہے یہ ارضِ گل کشمیر
آگ میں لیکن سلگ رہا ہے میرا ارم نظیر
دکھ تکلیف نے گھیرا ہے اب ان کو چاروں اور
دیکھ کے ان کو ہو جاتے ہیں پتھر بھی دلگیر
کچھ تو ہیں آزاد یہاں اور باقی ہیں مغلوب
اک دوجے سے مل جانا ہے اب ان کی تقدیر
قلم سے یا طاقت سے لازم ہے مگر جہاد
کرنا ہو گی ایک نہ اک دن تو کوئی تدبیر
غاصب کیسا قبضہ تیرا رشکِ گلشن پر
یہ دھرتی اسلام کی مسکن کب تیری جاگیر
عاکف غنی
No comments:
Post a Comment