اپنے نام کے ساتھ کشمیر لکھوں
کشمیر کے ساتھ رشتۂ تقدیر لکھوں
خوابِ آزادی دیکھتے لاکھوں قربان ہوئے
میں اپنے خواب کی کیا تعبیر لکھوں
مرنے کے بعد وطن کی مٹی میں سو کے
کشمیر کو تا قیامت اپنی جاگیر لکھوں
قلم ہتھیار ہے اسے کمزور مت سمجھو
عین ممکن ہے کہ لہجے کی تاثیر لکھوں
جنت کا سودا کوئی منافق کر سکتا ہے
الحاقیوں کو دشمن کی شمشیر لکھوں
خالد ندیم کاشر
No comments:
Post a Comment