یہ موڑ کیسے ہماری راہوں میں آ رہے ہیں
یقین والے گماں کا رستہ بتا رہے ہیں
اسے تو خواہش ہے آسمانوں پہ دسترس کی
ہم احتیاطاً مگر زمینیں بنا رہے ہیں
کہ باغِ دل پر جفا کا موسم کبھی نہ اترے
یہ سوچ کر ہی وفا کے پودے لگا رہے ہیں
نہیں تھا ارزاں حصولِ الفت کبھی بھی اِتنا
ہوس کے تاجر بدن کا سِکّہ چلا رہے ہیں
نہ جانے دل میں گڑی ہے کیسی یہ بے یقینی
ہم اپنے ہونے کو بھی نہ ہونا بتا رہے ہیں
اسیرِ غم ہیں، خوشی منانا حرام ٹھہرا
سو سب کو اپنے غموں پہ ہنسنا سِکھا رہے ہیں
غلام نبی اسیر
No comments:
Post a Comment