تُو جو بھی چاہے خدا وہ تجھ کو عطا کرے گا
تِرے لیے یہ فقیر دل سے دعا کرے گا
مجھے پتا ہے تُو دل بجھانے کے بعد میرا
اندھیرے رستے میں شمع روشن کیا کرے گا
اسے محبت کا اور بچھڑنے کا تجربہ ہے
وہ ایک ان میں سے دوسری مرتبہ کرے گا
ہمارے ملنے کی کوئی صورت نہیں ہے پھر بھی
یہ لگ رہا ہے خدا کوئی معجزہ کرے گا
معید مرزا
No comments:
Post a Comment